-
بھولا سبق 
ایک ایسا سبق جس کے اندر پنہاں ہے دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز، بگر ہم نے اُسے بھلا دیا!
وہ سبق جو آج سے تقریباً ۱۵۰۰ سال پہلے مکہ کی گلیوں میں دیا جاتا تھا! اور جس نے بھی اس پکار پر لبیک کہا وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہو گیا! اور یہی وہ سبق ہے جس نے اہل عرب کی کایا پلٹ دی! آج ہمیں بھی موجودہ تباہی و بربادی سے بچنے کے لیے اُسی سبق کو پڑھنا ہوگا۔۔۔ -
فلاح کا راستہ 
اللہ کے بندو! بربادی سے بچنے اور فلاح سے ہمکنار ہونے کا صرف ایک راستہ ہے. اللہ اور اس کے رسول ا پرایمان لاؤ اور اپنے ایمان کو شرک کی گندگی سے یکسر پاک کرلو؛
نیک اعمال اختیار کرتے رہو یہاں تک کہ اپنے مالک سے جاملو؛ کھلی، صاف اور واضح تبلیغ دین کا فریضہ ادا کرو اور اس راہ میں آنے والی ہر مشکل، ہر مصیبت کو خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرو۔ -
دعائیں و اذکار 
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دعا ایک عبادت ہے۔ اور ایک اور حدیث میں ارشاد ہے کہ دعا عبادت کا مغز ہے۔۔۔۔ جبکہ تمام عبادات اللہ ہی کو سزاوار ہیں۔ اس لیے عباد الرحمٰن خالص اللہ ہی کو پکارتے، اور اس ہی مالک عزوجل کے دربار میں براہ راست اپنی حاجات و مناجات لے کر جاتے ہیں۔۔۔
اس کتاب میں ہماری روز مرّہ زندگی میں کام آنے والی قرآنی اور مسنون دعاؤں کو جمع کیا گیا ہے۔ -
تعویذات اور شرک 
تعویذات کا تصور زمانہ قدیم سے ہی مشرک اقوام کے اندر پایا جاتا تھا۔۔۔ لیکن ستم ظریفی تو جب ہوئی جب یہود و نصاریٰ کی روش پر چلتے ہوئے اس امت مسلمہ کے احبار و رہبان نے بھی اسے اپنے پیٹ کی آگ بجھناے کی خاطر اسلام میں لا داخل کیا۔ پھر اس نادان قوم کا توکل اللہ رب العزت پر سے ہٹ کر تعویذات، دھاگوں، کڑوں، اور چھلّوں پر ہوگیا۔۔۔اور اس عدم توکل کے عوض مالک نے بھی اپنا سایہ رحمت ان پر سے ہٹا لیا۔ اور آج اس امت کی حالت زار آپ سب کے سامنے ہے۔۔۔
-
یہ مزار یہ میلے 
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ یہود و نصاریٰ پر لعنت فرمائے کہ انہوں نے اپنے انبیاء اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔ اورفتح مکہ کے بعد علی رضی اللہ عنہ کو حکم صادر فرمایا کہ جاؤ جو قبر بھی زمین سے اونچی نظر آئے اُسے زمین کے برابر کردو۔ لیکن آج وہ امت مسلمہ جس کا یہ نعرہ ہے کہ حرمت رسول پر جان بھی قربان ہے، اس کی کوئی بستی بھی ایسی نہ ملے گی جہاں قبروں کو مزار بنا کر پرستش نہ کی جا رہی ہو۔ تو کیا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کا انکار ان کی گستاخی نہیں ہے؟
-
وسیلے کا شرک 
مشرکین کا ایک راسخ عقیدہ یہ تھا کہ ہم جو اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں، تو یہ معاملہ صرف اس لیے ہے کہ یہ اللہ تک ہماری رسائی کرادیں گے۔ لیکن مالک نے انہیں جواب دیا کہ ہم تو تمہارے خالق اور تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں، تمہاری ہر پکار کو سننے اور اس کا جواب دینے والے ہیں۔ تو جب معاملہ یہ ہو جائے تو پھر کسی سفارشی کی بھلا کیا ضرورت ہو گی؟ آج اس امت کی اکثریت کا بھی یہی عقیدہ ہے۔ لیکن دیکھتے ہیں کہ کتاب اللہ اس بارے میں کیا کہتی ہے۔۔
-
عذاب برزخ 
مرنے کے بعد سے قیامت تک قبر کا عذاب یا راحت بلا شبہ یقینی چیزیں ہیں۔ لیکن اس امت میں بگاڑ اس وقت آیا جب مرنے کے بعد روح کو واپس اس دنیا میں لوٹانے اور اس ہی دنیاوی قبر میں عذاب و راحت کا عقیدہ دے دیا گیا۔ پھر ان فوت شدہ حضرات کی کشف و کرامات کا ایک لا محدود سلسلہ شروع ہو گیا۔ کیونکہ اب ان کو زندہ و جاوید سمجھ لیا گیا۔ لیکن قرآن و حدیث اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟
-
ایمان خالص۔ پہلی قسط 
آج کے اس پر فتن دور میں، ہر گروہ امت مسلمہ کی تباہی و بربادی کا ذمے دار ایک دوسرے کو ٹھہرا رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ دو گروہ، جو احبار و رہبان کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ان دونوں نے ہمیں مل کر مارا ہے۔ صوفیاء کے حیران کر دینے والے واقعات نہ ہی حقیقی ہیں اور نہ اسلام کی اصل تصویر پیش کرتے ہیں۔ جو اسلام محمد بن قاسمؒ بر صغیر میں لے کر آئے تھے۔ ان صوفیاء نے بہت جلد ہی اسے مسخ کر دیا، اور ابلیس کے ایجنڈے پر یہاں کفر و شرک کی تبلیغ شروع کر دی۔




